1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
سیاستاسرائیل

غزہ میں فائر بندی کے لیے مذاکرات جمود کا شکار کیوں؟

11 اپریل 2024

غزہ کی جنگ میں فائربندی کی بین الاقوامی کوششوں کے باوجود اسرائیل اور حماس کے درمیان اختلاف رائے میں کمی نہیں دیکھی جا رہی اور ان مذاکرات میں کوئی واضح پیش رفت نہیں ہو رہی۔

https://p.dw.com/p/4ef9Q
Palästinensische Gebiete - Nuseirat
تصویر: Omar Ashtawy/Zuma Press/dpa

رواں ہفتے اسرائیل اور حماس نے کسی فائر بندی معاہدے تک پہنچنے کے لیے اپنے لیے اڑتالیس گھنٹے کی ڈیڈلائن مقرر کی تھی، مگر جمعرات کو فریقین میں سے کسی نے بھی بین الاقوامی ثالثی کے دباؤ کے باوجود سیزفائر پر رضامندی کا اشارہ نہ دیا۔

اسرائیل کی امداد روکنے کے لیے جرمنی پر قانونی دباؤ

غزہ پٹی میں عیدالفطر کا تہوار جنگ کے سائے میں

امریکہ، قطر اور مصر نے مشترکہ طور پر ایک فائربندی معاہدے کا مسودہ تیار کیا ہے، جس کے تحت چھ ہفتوں تکفائربندی رہے گی، جب کہ اس دوران اسرائیلی جیلوں میں قید کئی سو فلسطینیوں کی رہائی کے بدلے حماس کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے چالیس اسرائیلی شہری رہا کیے جانا ہیں۔

اس دوران غزہ کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر امدادی سامان کی ترسیل میں اضافہ بھی ممکن ہونا ہے، جہاں متعدد علاقوں میں اب بے گھر افراد واپس لوٹ رہے ہیں اور انہیں فوری مدد کی اشد ضرورت ہے۔

Nahostkonflikt | Eid al-Fitr in Rafah
پہلے رمضان اور پھر عید سے قبل فائربندی معاہدے کی کوشش ناکام رہی ہےتصویر: Mohammed Talatene/dpa/picture alliance

اس فائربندی معاہدے کا بنیادی مقصد غزہ میں حماس کے جنگجوؤں کے زیر قبضہ 139 اسرائیلی یرغمالیوںکی رہائی کو ممکن بنانا ہے، جب کہ ساتھ ہی غزہ سے اسرائیلی افواج کے بتدریج انخلا کی راہ بھی ہموار کرنا ہے۔

جنیوا میں قائم سینٹر فار اسٹڈیز اور ریسرچ فار دی عرب اینڈ میڈیٹیرینیین ورلڈ سے وابستہ حسنی عابدی کے مطابق، ''اس وقت مذاکرات جمود کا شکار ہیں۔‘‘

فریقین تاہم مذاکرات جاری رکھنے پر راضی ہیں۔ حماس کے ترجمان حسین بدران نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات چیت میں کہا، ''حماس اس پیشکش کا جائزہ لے رہی ہے  اور اب تک اس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔‘‘

یہ بات اہم ہے کہ حماس غزہ میں مستقبل فائر بندی چاہتی ہے، تاہم اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو حماس کے تمام جنگجو دستوں کے خاتمے تک جنگ جاری رکھنے پر مصر ہیں۔

نسل کشی میں معاونت کا الزام، نکوراگووا جرمنی کے خلاف عدالت میں

نیتن یاہو کا کہنا ہے کہاب بھی حماس کی چار بٹالینز رفح کے علاقے میں سرگرم ہیں۔ رفح میں ڈیڑھ ملین فلسطینی پناہ لیے ہوئے ہیں تاہم نیتن یاہو نے امریکہ سمیت مختلف مغربی ممالک کے منع کرنے کے باوجود رفح میں زمینی فوجی کارروائی کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

سات اکتوبر کو حماس کی جانب سے اسرائیل میں کیے گئے ایک بڑے دہشت گردانہ حملے میں گیارہ سو ستر اسرائیلی شہری ہلاک ہو گئے تھے، جن میں سے بڑی تعداد عام شہریوں کی تھی۔ اس کے جواب میں اسرائیل نے غزہ پٹی میں بڑی فضائی اور زمینی عسکری کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔ حماس کے زیر انتظام کام کرنے والی غزہ کی وزارت صحت کے مطابق ان کارروائیوں میں اب تک 33482 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے بہت بڑی تعداد فلسطینی خواتین اور بچوں کی تھی۔

ع ت/ک م، م م (اے ایف پی، روئٹرز، اے پی)